الفتح الربانی
كتاب العلم— علم کے ابواب
بَابٌ فِيمَا جَاءَ فِي ذَمِّ كَثْرَةِ السُّؤَالِ فِي الْعِلْمِ لِغَيْرِ حَاجَةٍ باب: بغیر ضرورت کے علم کے بارے میں کثرت ِ سوال کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 268
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ لَمْ أَدْرِ مَا هُوَ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: اللَّهُ أَكْبَرُ! سَأَلَ عَنْهَا اثْنَانِ وَهَذَا الثَّالِثُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ رِجَالًا سَتَرْتَفِعُ بِهِمِ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يَقُولُوا: خَلَقَ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَهُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ ایک آدمی نے ان سے ایک سوال کیا، مجھے علم نہیں کہ وہ سوال کیا تھا، جواباً سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: «اللّٰہُ أَکْبَرُ» اس کے بارے میں دو بندے سوال کر چکے ہیں اور یہ تیسرا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ”بیشک لوگوں کے ساتھ سوالات کا سلسلہ جاری رہے گا، یہاں تک کہ وہ یہ سوال بھی کر دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا، لیکن اس کو کس نے پیدا کیا۔“
وضاحت:
فوائد: … اگر کسی کو اس قسم کے سوال کا وسوسہ پیدا ہونے لگے تو وہ اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرے اور اس وقت کی مسنون دعائیں پڑھے۔