الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ مَنْ رَكَعَ دُونَ الصَّفِّ ثُمَّ مَشَى إِلَيْهِ باب: اس شخص کا بیان جو صف کے بغیر رکوع کرے پھر چل کر صف میں مل جائے
حدیث نمبر: 2673
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ جَاءَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ نَعْلِ أَبِي بَكْرَةَ وَهُوَ يَحْضُرُ يُرِيدُ أَنْ يُدْرِكَ الرَّكْعَةَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنِ السَّاعِي؟)) قَالَ أَبُو بَكْرَةَ: أَنَا، قَالَ: ((زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) جب سیّدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ مسجد میں پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع کی حالت میں تھے۔ وہ رکوع کو پانے کے لیے دوڑے یا تیز چلے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے جوتے کی آواز سن لی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو پوچھا: یہ دوڑنے والا کون تھا؟ سیّدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تیری حرص کو زیادہ کرے، دوبارہ ایسے نہ کرنا۔