الفتح الربانی
كتاب العلم— علم کے ابواب
بَابٌ فِيمَا جَاءَ فِي ذَمِّ كَثْرَةِ السُّؤَالِ فِي الْعِلْمِ لِغَيْرِ حَاجَةٍ باب: بغیر ضرورت کے علم کے بارے میں کثرت ِ سوال کی مذمت کا بیان
عَنْ عَمْرٍو بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا يَزَالُونَ يَسْأَلُونَ حَتَّى يُقَالَ: هَذَا اللَّهُ خَلَقَنَا فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ)) قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَوَاللَّهِ! إِنِّي لَجَالِسٌ يَوْمًا إِذْ قَالَ لِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ: هَذَا اللَّهُ خَلَقَنَا فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَجَعَلْتُ أَصْبُعَيَّ فِي أُذُنَيَّ ثُمَّ صِحْتُ فَقُلْتُ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، اللَّهُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ، لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌسیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ سوالوں پر سوال کرتے رہیں گے، یہاں تک یہ بھی پوچھ لیا جائے گا کہ (یہ بات تو ٹھیک ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے ہم کو پیدا کیا، لیکن اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا۔“ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں ایک دن بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عراقی آدمی نے یہی سوال کر دیا اور کہا: ”یہ اللہ تعالیٰ، اس نے ہم کو تو پیدا کیا، لیکن اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟“ میں نے اپنی دو انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں اور چلا کر کہا: ”اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ کہا، اللہ تعالیٰ یکتا ہے، بے نیاز ہے، اس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا اور کوئی بھی اس کا ہم سر نہیں ہے۔“