حدیث نمبر: 267
عَنْ عَمْرٍو بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا يَزَالُونَ يَسْأَلُونَ حَتَّى يُقَالَ: هَذَا اللَّهُ خَلَقَنَا فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ)) قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَوَاللَّهِ! إِنِّي لَجَالِسٌ يَوْمًا إِذْ قَالَ لِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ: هَذَا اللَّهُ خَلَقَنَا فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَجَعَلْتُ أَصْبُعَيَّ فِي أُذُنَيَّ ثُمَّ صِحْتُ فَقُلْتُ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، اللَّهُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ، لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ سوالوں پر سوال کرتے رہیں گے، یہاں تک یہ بھی پوچھ لیا جائے گا کہ (یہ بات تو ٹھیک ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے ہم کو پیدا کیا، لیکن اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا۔“ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں ایک دن بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عراقی آدمی نے یہی سوال کر دیا اور کہا: ”یہ اللہ تعالیٰ، اس نے ہم کو تو پیدا کیا، لیکن اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟“ میں نے اپنی دو انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں اور چلا کر کہا: ”اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ کہا، اللہ تعالیٰ یکتا ہے، بے نیاز ہے، اس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا اور کوئی بھی اس کا ہم سر نہیں ہے۔“

وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: جب اس بندے نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا تو سیدنا ابو ہریرہ ؓنے اپنی ہتھیلی میں کنکریاں پکڑیں اور ان کو پھینکا اور کہا: کھڑے ہو جاؤ، کھڑے ہو جاؤ، میرے خلیل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سچ فرمایا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 267
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3276، ومسلم: 135، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9027 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9015»