الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ هَلْ يَأْخُذُ الْقَوْمُ مَصَافَّهُمْ قَبْلَ الْإِمَامِ أَمْ لَا باب: کیا لوگ امام سے پہلے صفیںبنا لیں یا نہیں
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَعُدِّلَتِ الصُّفُوفُ قِيَامًا (وَفِي رِوَايَةٍ: قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ ذَكَرَ أَنَّهُ جُنُبٌ فَقَالَ لَنَا مَكَانَكُمْ، ثُمَّ رَجَعَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ فَكَبَّرَ فَصَلَّيْنَا مَعَهُسیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنے سے پہلے صفیں برابر ہو گئیں،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور جب مصلے پر کھڑے ہوئے تو آپ کو یاد آیا کہ آپ جنبی تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا کہ اپنی جگہوں پر ٹھہرے رہو، پھر آپ واپس لوٹ گئے ۔ جب غسل کر کے تشریف لائے تو آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکبیر کہی اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔