الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ الْحَثِّ عَلَى تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ وَرَصِّهَا وَبَيَانِ خَيْرِهَا مِنْ شَرِّهَا باب: صفوں کو درست کرنے اور ملانے پر رغبت دلانے کا بیان اور ان میں سے سب سے اچھی¤اور سب سے بری صفوں کا بیان
حدیث نمبر: 2656
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَمَلَائِكَتَهُ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَصِلُونَ الصُّفُوفَ، وَمَنْ سَدَّ فُرْجَةً رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے ان لوگوں پر رحمت بھیجتے ہیں، جو صفوں کو ملاتے ہیں اور جو شخص صف کے خلا کو پر کرتا ہے، اللہ اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … فرشتوں کا رحمت بھیجنا، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے حق میں دعائے رحمت کرتے ہیں۔یہ تھیں صف بندی کے بارے میں مسند احمد کی روایات، اب ہم سلسلہ صحیحہ کی اس موضوع سے متعلقہ ایسی روایات ذکر کریں گے، جو مسند احمد میں نہیں ہیں اور ان کے ساتھ امام البانی کے تاثرات کا تذکرہ بھی ہو گا۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ سَدَّ فُرْجَۃً بَنَی اللّٰہُ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ وَرَفَعَہٗ بِھَا دَرَجَۃً۔)) یعنی: ’’جس نے (صفّ کے) شگاف کو پُر کیا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا اور ایک درجہ بلند کر دے گا۔‘‘ (صحیحہ:۱۸۹۲، الأمالی للمحاملی: ق ۳۶/۲، الطبرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۱/ ۳۲/ ۲نحوہ)