الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ الْحَثِّ عَلَى تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ وَرَصِّهَا وَبَيَانِ خَيْرِهَا مِنْ شَرِّهَا باب: صفوں کو درست کرنے اور ملانے پر رغبت دلانے کا بیان اور ان میں سے سب سے اچھی¤اور سب سے بری صفوں کا بیان
حدیث نمبر: 2649
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ لَا يَتَخَلَّلُكُمْ كَأَوْلَادِ الْحَذَفِ))، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَا أَوْلَادُ الْحَذَفِ؟ قَالَ: ((سُودٌ جُرْدٌ تَكُونُ بِأَرْضِ الْيَمَنِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو سیدھا اور برابر کیا کرو، شیطان حَذَف کی اولاد کی طرح تمہارے اندر نہ گھسنے پائے ۔کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! حَذَف کی اولاد سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ سیاہ رنگ کی بھیڑیں ہوتی ہیں، ان کے بال نہیں ہوتے اوریہ یمن کے علاقے میں پائی جاتی ہیں۔