الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ الْحَثِّ عَلَى تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ وَرَصِّهَا وَبَيَانِ خَيْرِهَا مِنْ شَرِّهَا باب: صفوں کو درست کرنے اور ملانے پر رغبت دلانے کا بیان اور ان میں سے سب سے اچھی¤اور سب سے بری صفوں کا بیان
حدیث نمبر: 2648
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((رُصُّوا صُفُوفَكُمْ وَقَارِبُوا بَيْنَهَا وَحَاذُوا بِالْأَعْنَاقِ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! إِنِّي لَأَرَى الشَّيَاطِينَ تَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصُّفُوفِ كَأَنَّهَا الْحَذَفُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو ملاؤ ، ان کو قریب قریب کرو اور گرد نوں کو (ایک سیدھ میں) برابر رکھو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدکی جان ہے! بے شک میں شیطانوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ صفوں کے درمیان خالی جگہوں میں یوں گھستے ہیں، جیسے وہ بغیر بالوں کے کالی بھیڑیں ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … ’’ان کو قریب قریب کرو‘‘ کا معنی یہ ہے کہ دو صفوں کے درمیان کا فاصلہ ضرورت کے مطابق ہونا چاہیے، ایک صف دوسری صف سے زیادہ دور نہ ہو۔ ’’حَذَف‘‘:کالی چھوٹی بھیڑیں جن کے نہ بال ہوں، نہ دم اور نہ کان۔جب بعض مساجد میں اس قسم کی احادیث بیان کی جاتی ہے کہ صف کے خلا میں شیطان گھس جاتے ہیں، تو بعض لوگ یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ مسجد میں شیطان کہاں سے آ جاتا ہے۔ ایسے لوگوں سے گزارش ہے کہ جب صحابہ کرام مسجد نبوی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے ہوتے تو وہاں تو رہ جانے والے شگاف میں شیطان پہنچ جاتا تھا، جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھ کر یہ نسخہ بتایا کہ دو مقتدیوں کے درمیان کوئی خلا اور شگاف نہیں ہونا چاہیے۔