الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ الْحَثِّ عَلَى تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ وَرَصِّهَا وَبَيَانِ خَيْرِهَا مِنْ شَرِّهَا باب: صفوں کو درست کرنے اور ملانے پر رغبت دلانے کا بیان اور ان میں سے سب سے اچھی¤اور سب سے بری صفوں کا بیان
حدیث نمبر: 2647
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَقِيمُوا الصُّفُوفَ فَإِنَّمَا تَصُفُّونَ بِصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ وَحَاذُوا بَيْنَ الْمَنَاكِبِ وَسُدُّوا الْخَلَلَ وَلِينُوا فِي أَيْدِي إِخْوَانِكُمْ وَلَا تَذَرُوا فُرُجَاتٍ لِلشَّيْطَانِ وَمَنْ وَصَلَ صَفًّا وَصَلَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَمَنْ قَطَعَ صَفًّا قَطَعَهُ اللَّهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو سیدھا کرو، (خیال تو کرو کہ) تم نے فرشتوں کی صفوں کی طرح صفیں بنانی ہیں، اپنے کندھوں کو برابر رکھو، خالی جگہوں کو پر کردو، اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم رہو او رشیطان کے لیے کوئی خالی جگہ نہ چھوڑو۔ (یاد رکھو کہ) جس نے صف کو ملایا اللہ اس کو (اپنے فضل اور رحمت سے) ملائے گا، اور جس نے صف کو کاٹا اللہ اس کو (اپنی رحمت سے)کاٹ دے گا۔
وضاحت:
فوائد: … ’’اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم رہو‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ صف کے شگاف کو پر کرنے والے