حدیث نمبر: 2645
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ: ((مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، أُسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ))، ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَرَأَانَا حِلَقًا فَقَالَ: ((مَا لِي أَرَاكُمْ عِزِينَ))، ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ: ((أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟))، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟ قَالَ: ((يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْأُوْلَى وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم اپنے ہاتھوں کو اس طرح اٹھاتے ہو، جیسے یہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں، نماز میں سکون اختیار کرو۔ پھر ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں گروہوں کی شکل میں بیٹھے ہوئے دیکھ کر فرمایا: کیا وجہ ہے کہ تم مختلف گروہوں کی صورت میں ہو؟ پھر ایک دفعہ آپ ہمارے پاس آئے اور فرمایا: کیا تم اس طرح صفیں نہیں بناتے، جیسے فرشتے اپنے رب کے پاس بناتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! فرشتے اپنے رب کے پاس کیسے صفیں بناتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ پہلے اگلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں اور صف میں آپس میں مضبوطی کے ساتھ مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … آج کل جن مساجد میں دو دو مقتدیوں کے درمیان سات آٹھ آٹھ انچ کا فاصلہ ہونے کے باوجود جو ائمہ و خطباء خاموش رہتے ہیں، بلکہ لوگوں کو ایسی ہی صف بنانے کی باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کو عربی لغت کی روشنی میں اس حدیث ِ مبارکہ کے آخری الفاظ پر غور کرنا چاہیے کہ ’’وَیَتَرَاصُّوْنَ‘‘ کا کیا معنی ہے۔ اس لفظ کا مادہ ’’ر َصّ‘‘ ہے، جس کا معنی ہے: ایک دوسرے سے ملنا، جڑنا، دانتوں کا ترتیب کے ساتھ ملا ہوا ہونا، چمٹنا، پیوست ہونا، اس باب سے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کو ’’بُنْیَانٌ مَّرْصُوْص‘‘ اور مضبوط اور پختہ چیز کو ’’رَصِیْص‘‘ کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2645
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 430 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21024 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21337»