الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ الْحَثِّ عَلَى تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ وَرَصِّهَا وَبَيَانِ خَيْرِهَا مِنْ شَرِّهَا باب: صفوں کو درست کرنے اور ملانے پر رغبت دلانے کا بیان اور ان میں سے سب سے اچھی¤اور سب سے بری صفوں کا بیان
حدیث نمبر: 2644
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا إِذَا قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ فَيَمْسَحُ عَوَاتِقَنَا أَوْ صُدُورَنَا وَكَانَ يَقُولُ: ((لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ))، وَكَانَ يَقُولُ: ((إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ أَوِ الصُّفُوفِ الْأُوَلِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب ہم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس آتے اور ہمارے کندھوں یا سینوں کو چھوتے اور فرماتے: (اس معاملے میں) اختلاف نہ کرو، وگرنہ تمہارے دل ایک دوسرے کے لیے مخالف ہو جائیں گے۔ اور یہ فرماتے تھے: بے شک اللہ اور اس کے فرشتے پہلی صف والوں پر رحمت بھیجتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … فرشتوں کا رحمت بھیجنا، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے حق میں دعائے رحمت کرتے ہیں۔