الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ الْحَثِّ عَلَى تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ وَرَصِّهَا وَبَيَانِ خَيْرِهَا مِنْ شَرِّهَا باب: صفوں کو درست کرنے اور ملانے پر رغبت دلانے کا بیان اور ان میں سے سب سے اچھی¤اور سب سے بری صفوں کا بیان
حدیث نمبر: 2643
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِهِ تَأَخُّرًا، فَقَالَ: تَقَدَّمُوا فَأْتَمُّوا بِي، وَلْيُؤْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ، لَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ میں (خواہ مخواہ کی) تاخیر دیکھی اورفرمایا: آگے بڑھو اور میری اقتداء کرو اور تمہارے پیچھے والے تمہاری اقتداء کریں۔ (متنبہ رہو کہ) لوگ پیچھے ہٹتے رہتے ہیں، حتی کہ اللہ تعالیٰ ان کو قیامت والے دن پیچھے کر دے گا۔
وضاحت:
فوائد: … اِس ’’تاخیر‘‘ سے مراد کیا ہے؟ درج ذیل روایت کا جائزہ لیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَایَزَالُ قَوْمٌ یَتَأَخَّرُوْنَ عَنِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ، حَتّٰی یُؤَخِّرَھُمُ اللّٰہُ فِیْ النَّارِ۔)) یعنی: ’’لوگ پہلی صف سے پیچھے ہٹتے رہیں گے، یہاں تک اللہ تعالیٰ ان کو آگ میں پیچھے چھوڑ دے گا۔‘‘ (ابوداود: ۶۷۹)