الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ الْحَثِّ عَلَى تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ وَرَصِّهَا وَبَيَانِ خَيْرِهَا مِنْ شَرِّهَا باب: صفوں کو درست کرنے اور ملانے پر رغبت دلانے کا بیان اور ان میں سے سب سے اچھی¤اور سب سے بری صفوں کا بیان
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّينَا فِي الصُّفُوفِ كَمَا تُقَوَّمُ الْقِدَاحُ حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّا أَخَذْنَا ذَلِكَ عَنْهُ وَفَهِمْنَاهُ أَقْبَلَ ذَاتَ يَوْمٍ بِوَجْهِهِ فَإِذَا رَجُلٌ مُنْتَبِذٌ بِصَدْرِهِ، فَقَالَ: ((لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ))سیّدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں صفوں میں ایسے سیدھا کرتے، جیسے تیروں کی لکڑیوں کو سیدھا کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ گمان کر لیا کہ ہم نے آپ سے یہ تعلیم حاصل کر لی ہے اور ہم اس طریقے کو سمجھ گئے ہیں، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور دیکھا کہ ایک آدمی کا سینہ آگے کو نکلا ہوا تھا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ضرور ضرور اپنی صفوں کو سیدھا کرو گے، یا پھراللہ تعالیٰ تمہارے چہروں کے درمیان ایک دوسرے کے لیے مخالفت ڈال دے گا۔