الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ الْحَثِّ عَلَى تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ وَرَصِّهَا وَبَيَانِ خَيْرِهَا مِنْ شَرِّهَا باب: صفوں کو درست کرنے اور ملانے پر رغبت دلانے کا بیان اور ان میں سے سب سے اچھی¤اور سب سے بری صفوں کا بیان
حدیث نمبر: 2641
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ فَيَقُولُ: ((تَرَاصُّوا (وَفِي رِوَايَةٍ: أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا) وَاعْتَدِلُوا فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تکبیر تحریمہ کہنے سے پہلے ہماری طرف متوجہ ہوتے اورفرماتے: آپس میں مضبوطی سے مل جاؤ، (اور ایک روایت میں ہے: اپنی صفوں کو سیدھا کرلو، اور آپس میں مل جاؤ) اور برابر ہو جاؤ ، بے شک میں تم کو اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … سیّدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَقِیْمُوْا الصُّفُوْفَ وَ حَاذُوْا بَیْنَ الْمَنَاکِبِ وَ سُدُّوْا الْخَلَلَ وَلِیْنُوْا بِاَیْدِیْ اِخْوَانِکُمْ وَلَا تَذَرُوْا فُرُجَاتٍ لِلشَّیْطَانِ وَمَنْ وَصَلَ صَفًّا وَصَلَہُ اللّٰہُ وَ مَنْ قَطَعَ صَفًّا قَطَعَہُ اللّٰہُ۔)) (ابوداود) یعنی: ’’صفوں کو سیدھا کرو، کندھوں کو برابر کرو، خلا کو پر کرو، اپنے بھائیوں کے لیے نرم ہو جاؤ، شیطان کے لیے (صف میں) خالی جگہیں مت چھوڑو، جس نے صف کو ملایا اللہ تعالیٰ اسے ملائے گا اور جس نے صف کو کاٹا اللہ تعالیٰ اسے کاٹے گا‘‘۔