الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ الْحَثِّ عَلَى تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ وَرَصِّهَا وَبَيَانِ خَيْرِهَا مِنْ شَرِّهَا باب: صفوں کو درست کرنے اور ملانے پر رغبت دلانے کا بیان اور ان میں سے سب سے اچھی¤اور سب سے بری صفوں کا بیان
حدیث نمبر: 2640
عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: جَاءَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَقُلْنَا لَهُ: مَا أَنْكَرْتَ مِنْ عَهْدِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: مَا أَنْكَرْتُ مِنْكُمْ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّكُمْ لَا تُقِيمُونَ صُفُوفَكُمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
بشیر بن یسار کہتے ہیں: سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ (بصرہ سے) مدینہ منورہ تشریف لائے، ہم نے ان سے کہا: آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کی بہ نسبت کون سی چیز عجیب اور نئی لگ رہی ہے؟ انھوں نے کہا: میں تمہارے اندر کسی چیز کو عجیب محسوس نہیں کر رہا، البتہ یہ چیز ہے کہ تم اپنی صفوں کو سیدھا اور برابر نہیں کرتے۔