حدیث نمبر: 2640
عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: جَاءَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَقُلْنَا لَهُ: مَا أَنْكَرْتَ مِنْ عَهْدِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: مَا أَنْكَرْتُ مِنْكُمْ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّكُمْ لَا تُقِيمُونَ صُفُوفَكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

بشیر بن یسار کہتے ہیں: سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ (بصرہ سے) مدینہ منورہ تشریف لائے، ہم نے ان سے کہا: آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کی بہ نسبت کون سی چیز عجیب اور نئی لگ رہی ہے؟ انھوں نے کہا: میں تمہارے اندر کسی چیز کو عجیب محسوس نہیں کر رہا، البتہ یہ چیز ہے کہ تم اپنی صفوں کو سیدھا اور برابر نہیں کرتے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2640
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 724 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12109، 12124 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12148»