حدیث نمبر: 2636
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَزِيدُ بِهِ فِي الْحَسَنَاتِ؟)) قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ وَكَثْرَةُ الْخُطَى إِلَى هَٰذِهِ الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، مَا مِنْكُمْ مِنْ رَجُلٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ مُتَطَهِّرًا فَيُصَلِّي مَعَ الْمُسْلِمِينَ الصَّلَاةَ ثُمَّ يَجْلِسُ فِي الْمَجْلِسِ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ الْأُخْرَى إِلَّا الْمَلَائِكَةُ تَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، فَإِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاعْدِلُوا صُفُوفَكُمْ وَأَقِيمُوهَا وَسُدُّوا الْفُرَجَ فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي، فَإِذَا قَالَ إِمَامُكُمُ اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقُولُوا اللَّهُ أَكْبَرُ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، وَإِنَّ خَيْرَ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ، وَشَرَّهَا الْمُؤَخَّرُ، وَخَيْرَ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُؤَخَّرُ، وَشَرَّهَا الْمُقَدَّمُ، يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ! إِذَا سَجَدَ الرِّجَالُ فَاغْضُضْنَ أَبْصَارَكُنَّ لَا تَرَيْنَ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ مِنْ ضِيقِ الْأَزُرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہاری رہنمائی ایسے امور کی طرف نہ کروں کہ اللہ جن کے ذریعے خطاؤں کو معاف کرتا ہے اور نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ناپسندیدگیوں کے باوجود مکمل وضو کرنا، اِن مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چل کر آنا اور نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، تم میں سے جو آدمی اپنے گھر سے وضو کرکے نکلتا ہے اورمسلمانوں کے ساتھ ایک نماز ادا کر کے اُسی جائے نماز میں دوسری نماز کے انتظار میں بیٹھ جاتا ہے، تو فرشتے اس کے لیے یہ دعا کرتے ہیں: اے اللہ!اس کو معاف کر دے، اے اللہ ! اس پر رحم فرما۔جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اپنی صفوں کو برابر اور سیدھا کیا کرو اور شگافوں کو پر کر دیا کرو، بے شک میں تم کو اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں، جب تمہارا امام اللہ اکبر کہے تو تم اللہ اکبر کہو،جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اورجب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا لک الحمد کہو۔بے شک مرودں کی بہترین صف اگلی صف ہے اور ان کی بری ترین صف پچھلی ہے اور عورتوں کی بہترین صف پچھلی ہے اور ان کی بری صف اگلی صف ہے، اے عورتوں کی جماعت! جب مرد سجدہ میں جائیں تو تم اپنی نظریں نیچی رکھا کرو ، تاکہ ان کے ازار چھوٹے ہونے کی وجہ سے ان کی شرمگاہوں کو نہ دیکھ سکو۔

وضاحت:
فوائد: … ’’بری صف‘‘ سے مراد اجرو ثواب سے کمی والی بات ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2636
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وھذا سند حسن في المتابعات أخرجه مطولا ومختصرا ابن ماجه: 427، وابن ابي شيبة: 1/ 7، 2/ 385، والبيھقي: 2/ 16، وابن خزيمة: 177، 357، 1562 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10994 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11007»