حدیث نمبر: 2635
عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ لِلِقَاءِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَكُنْ فِيهِمْ رَجُلٌ أَلْقَاهُ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أُبَيٍّ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَخَرَجَ عُمَرُ مَعَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَنَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ فَعَرَفَهُمْ غَيْرِي فَنَحَّانِي وَقَامَ فِي مَكَانِي، فَمَا عَقَلْتُ صَلَاتِي، فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: يَا بُنَيَّ! لَا يَسُوءُكَ اللَّهُ، فَإِنِّي لَمْ آتِكَ الَّذِي أَتَيْتُكَ بِجَهَالَةٍ وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا: ((كُونُوا فِي الصَّفِّ الَّذِي يَلِينِي))، وَإِنِّي نَظَرْتُ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ فَعَرَفْتُهُمْ غَيْرَكَ، ثُمَّ حَدَّثَ فَمَا رَأَيْتُ الرِّجَالَ مَتَحَتُّوا أَعْنَاقَهُمْ إِلَى شَيْءٍ مُتَوَحِّشَةً إِلَيْهِ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: هَلَكَ أَهْلُ الْعُقْدَةِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ! أَلَا لَا عَلَيْهِمْ آسَى وَلَكِنْ آسَى عَلَى مَنْ يَهْلِكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَإِذَا هُوَ أُبَيٌّ، وَالْحَدِيثُ عَلَى لَفْظِ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

قیس بن عباد کہتے ہیں: میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کو ملنے کے لیے مدینہ آیا، میں جن آدمیوں کو ملنا چاہتا تھا، ان میں مجھے سب سے زیادہ محبوب سیّدنا اُبی رضی اللہ عنہ تھے۔ نماز کے لیے اقامت کہی گئی اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ دوسرے صحابہ کے ساتھ باہر تشریف لائے۔ میں پہلی صف میں کھڑا تھا، ایک آدمی آیا، اس نے لوگوں کے چہروں پر نگاہ ڈالی اور میرے علاوہ سب کو پہچان لیا، اس نے مجھے پیچھے ہٹا دیا اور خود میری جگہ پر کھڑا ہوگیا، میں(غصے کی وجہ سے) اپنی نماز کو نہ سمجھ سکا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو اس نے مجھے کہا: میرے پیارے بیٹے! اللہ تجھے برا نہ کرے۔ میں نے تیرے ساتھ جو کچھ کیا ہے، وہ جہالت کی وجہ سے نہیں کیا، بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا تھا: ا س صف میں کھڑے ہوا کرو جو میرے قریب ہے۔ میں نے لوگوں کے چہرے دیکھے، میں تیرے علاوہ ان سب کو پہچانتا تھا، ( اس لیے تجھے پیچھے کر دیا)۔ پھر وہ لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنے لگے، میں نے لوگوں کو جس انداز میں ان کی بات کی طرف گردنیں لمبی کرتے ہوئے دیکھا، پہلے یہ انداز نہیں دیکھا تھا، انھوں نے اپنے وعظ میں یہ بھی کہا تھا: ربّ ِ کعبہ کی قسم! بیعت لینے والے (امراء) ہلاک ہو گئے ہیں، خبردار ! میں ان پر افسوس نہیں کر رہا ، مجھے افسوس ان مسلمانوں پر ہے ، جو (اُن کی وجہ سے) ہلاک ہوں گے ۔‘‘ (اچانک مجھے پتا چلا کہ) یہ سیّدنا اُبی رضی اللہ عنہ ہی تھے ۔ یہ حدیث سلیمان بن داود کے الفاظ کے مطابق بیان کی گئی ہے ۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ سمجھدار اور عقلمند لوگ امام کے قریب کھڑے ہوں، تاکہ ضرورت کے وقت دورانِ نماز اس کے نائب بنیں، امام کے بھول جانے کی صورت میں اسے لقمہ دیں، اچھے انداز میں امام کی اقتداء کریں اور اس کی نماز کی کیفیت کو ضبط کر کے لوگوں کو اس کی تعلیم دیں۔ عصر حاضر میں اس حکم نبوی کا کوئی خیال نہیں رکھا جا رہا اور لوگ ایک روایتی روٹین کے غلام بن کر رہ گئے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2635
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 2/ 88 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21264 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21585»