الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ مَشْرُوعِيَّةِ وُقُوفِ أُولِي الْأَحْلَامِ وَالنَّهْيِ قَرِيبًا مِنَ الْإِمَامِ باب: عقلمند اور سمجھدار لوگوں کا امام کے قریب کھڑے ہونے کی مشروعیت کا بیان
عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ لِلِقَاءِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَكُنْ فِيهِمْ رَجُلٌ أَلْقَاهُ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أُبَيٍّ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَخَرَجَ عُمَرُ مَعَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَنَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ فَعَرَفَهُمْ غَيْرِي فَنَحَّانِي وَقَامَ فِي مَكَانِي، فَمَا عَقَلْتُ صَلَاتِي، فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: يَا بُنَيَّ! لَا يَسُوءُكَ اللَّهُ، فَإِنِّي لَمْ آتِكَ الَّذِي أَتَيْتُكَ بِجَهَالَةٍ وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا: ((كُونُوا فِي الصَّفِّ الَّذِي يَلِينِي))، وَإِنِّي نَظَرْتُ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ فَعَرَفْتُهُمْ غَيْرَكَ، ثُمَّ حَدَّثَ فَمَا رَأَيْتُ الرِّجَالَ مَتَحَتُّوا أَعْنَاقَهُمْ إِلَى شَيْءٍ مُتَوَحِّشَةً إِلَيْهِ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: هَلَكَ أَهْلُ الْعُقْدَةِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ! أَلَا لَا عَلَيْهِمْ آسَى وَلَكِنْ آسَى عَلَى مَنْ يَهْلِكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَإِذَا هُوَ أُبَيٌّ، وَالْحَدِيثُ عَلَى لَفْظِ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَقیس بن عباد کہتے ہیں: میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کو ملنے کے لیے مدینہ آیا، میں جن آدمیوں کو ملنا چاہتا تھا، ان میں مجھے سب سے زیادہ محبوب سیّدنا اُبی رضی اللہ عنہ تھے۔ نماز کے لیے اقامت کہی گئی اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ دوسرے صحابہ کے ساتھ باہر تشریف لائے۔ میں پہلی صف میں کھڑا تھا، ایک آدمی آیا، اس نے لوگوں کے چہروں پر نگاہ ڈالی اور میرے علاوہ سب کو پہچان لیا، اس نے مجھے پیچھے ہٹا دیا اور خود میری جگہ پر کھڑا ہوگیا، میں(غصے کی وجہ سے) اپنی نماز کو نہ سمجھ سکا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو اس نے مجھے کہا: میرے پیارے بیٹے! اللہ تجھے برا نہ کرے۔ میں نے تیرے ساتھ جو کچھ کیا ہے، وہ جہالت کی وجہ سے نہیں کیا، بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا تھا: ا س صف میں کھڑے ہوا کرو جو میرے قریب ہے۔ میں نے لوگوں کے چہرے دیکھے، میں تیرے علاوہ ان سب کو پہچانتا تھا، ( اس لیے تجھے پیچھے کر دیا)۔ پھر وہ لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنے لگے، میں نے لوگوں کو جس انداز میں ان کی بات کی طرف گردنیں لمبی کرتے ہوئے دیکھا، پہلے یہ انداز نہیں دیکھا تھا، انھوں نے اپنے وعظ میں یہ بھی کہا تھا: ربّ ِ کعبہ کی قسم! بیعت لینے والے (امراء) ہلاک ہو گئے ہیں، خبردار ! میں ان پر افسوس نہیں کر رہا ، مجھے افسوس ان مسلمانوں پر ہے ، جو (اُن کی وجہ سے) ہلاک ہوں گے ۔‘‘ (اچانک مجھے پتا چلا کہ) یہ سیّدنا اُبی رضی اللہ عنہ ہی تھے ۔ یہ حدیث سلیمان بن داود کے الفاظ کے مطابق بیان کی گئی ہے ۔