الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ مَشْرُوعِيَّةِ وُقُوفِ أُولِي الْأَحْلَامِ وَالنَّهْيِ قَرِيبًا مِنَ الْإِمَامِ باب: عقلمند اور سمجھدار لوگوں کا امام کے قریب کھڑے ہونے کی مشروعیت کا بیان
عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَخْبَرَةَ الْأَزْدِيِّ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلَاةِ وَيَقُولُ: ((اسْتَوُوا وَلَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، لِيَلِينِّي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ))، قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ: فَأَنْتُمْ الْيَوْمَ أَشَدُّ اخْتِلَافًاسیّدنا ابومسعودانصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے (صف بناتے وقت) ہمارے کندھوں کوچھوتے اور فرماتے: برابر ہو جاؤ اور مختلف ہو کر کھڑے نہ ہو، وگرنہ تمہارے دل ایک دوسرے سے مختلف ہوجائیں گے، تم میں سے عقلمند اور سمجھدار لوگوں کو چاہیے کہ وہ ضرور ضرور میرے قریب کھڑے ہوں، پھر ان کے بعد وہ کھڑے ہوں جو (عقل و فہم میں) اُن کے قریب ہوں، پھر وہ کھڑے ہوں جو (دوسرے مرتبے کے) لوگوں کے قریب ہوں۔ سیّدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: (لوگو!) آج تم اسی وجہ سے بہت زیادہ اختلاف کا شکار ہوگئے ہو۔