حدیث نمبر: 2630
عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَطَوُّعًا، قَالَ: فَقَامَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ وَأُمُّ حَرَامٍ خَلْفَنَا قَالَ ثَابِتٌ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ وَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّيْنَا عَلَى بِسَاطٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نفلی نماز پڑھائی، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا ہمارے پیچھے کھڑی ہو گئیں اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا، ہم نے ایک چٹائی پر نماز پڑھی تھی۔

وضاحت:
فوائد: … صف بندی کے معاملے میں یہ تو واضح ہے کہ امام کے ساتھ پہلی صفوں میں مرد حضرات کھڑے ہوں اور ان میں عقلمند اور سمجھدار لوگ امام کے قریب کھڑے ہوں اور عورتیں پچھلی صفوں میں کھڑی ہوں۔ بچوں کا محل کیا ہے؟ کسی صحیح حدیث میں اس کا تعین نہیں کیا گیا، ظاہر تو یہی ہے کہ جو بچے سن تمیز تک پہنچ چکے ہوں تو اس معاملے میں ان کو مردوں کا ہی حکم دیا جائے گا، بلکہ ان میں سے قرآن کا زیادہ حصہ یاد کرنے والوں کو مردوں کا امام بھی بنایا جائے گا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک بچہ ہوتا تو اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم عام مرد کی طرح اپنی دائیں جانب کھڑا کرتے تھے اور بچوں
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2630
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 660 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12626، 13019 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12653»