الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ مَوْقِفِ الصِّبْيَانِ وَالنِّسَاءِ مِنَ الرِّجَالِ وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: مردوں کے ساتھ عورتوں اور بچوں کے کھڑے ہونے کے مقام کا بیان
عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ فَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((قُومُوا فَلِأُصَلِّيَ لَكُمْ))، قَالَ أَنَسٌ: فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا، قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ، فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَسیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میری دادی سیدہ ملیکہ رضی اللہ عنہا نے کھانا تیار کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے لیے گھر میں بلایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانا کھانے کے بعد فرمایا: اٹھو، میں تم کو نماز پڑھا تا ہوں۔ میں ایک چٹائی لانے کے لیے اٹھا، جو لمبے عرصہ تک استعمال کیے جانے کی وجہ سے سیاہ ہو گئی تھی، اس لیے میں نے اس پر پانی کے چھینٹے مارے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے، میں اور یتیم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے اور بڑھیا ہمارے پیچھے کھڑی ہو گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس چلے گئے۔