الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ فِي مَوْقِفِ الِاثْنَيْنِ مِنَ الْإِمَامِ باب: امام کے ساتھ دو آدمیوں کے کھڑا ہونے کا بیان
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ الْأَسْوَدَ وَعَلْقَمَةَ كَانَا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) فِي الدَّارِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَصَلَّى هَؤُلَاءِ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَصَلَّى بِهِمْ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ وَقَامَ وَسَطَهُمْ وَقَالَ: إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَاصْنَعُوا هَكَذَا، فَإِذَا كُنْتُمْ أَكْثَرَ فَلْيُؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ وَلْيَضَعْ أَحَدُكُمْ يَدَيْهِ بَيْنَ فَخِذَيْهِ إِذَا رَكَعَ فَلْيَحْنُأْ فَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى اخْتِلَافِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ(دوسری سند) اسود اور علقمہ دونوں سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھے، انھوں نے پوچھا: کیا ان لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ پھر سیّدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے ان کو اذان و اقامت کے بغیر نماز پڑھائی اور وہ ان کے درمیان کھڑے ہوئے اور کہا: جب تم تین لوگ ہو تو اس طرح کیا کرو اور جب زیادہ ہو تو تم میں سے ایک امامت کروائے (اور آگے کھڑا ہو)، جب کوئی رکوع کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنے ہاتھ اپنی رانوں کے درمیان رکھے اور رکوع کے لیے جھکے، میں اب بھی گویا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں کے مختلف ہونے کی طرف دیکھ رہا ہوں۔