حدیث نمبر: 2624
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ الْأَسْوَدَ وَعَلْقَمَةَ كَانَا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) فِي الدَّارِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَصَلَّى هَؤُلَاءِ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَصَلَّى بِهِمْ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ وَقَامَ وَسَطَهُمْ وَقَالَ: إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَاصْنَعُوا هَكَذَا، فَإِذَا كُنْتُمْ أَكْثَرَ فَلْيُؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ وَلْيَضَعْ أَحَدُكُمْ يَدَيْهِ بَيْنَ فَخِذَيْهِ إِذَا رَكَعَ فَلْيَحْنُأْ فَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى اخْتِلَافِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

(دوسری سند) اسود اور علقمہ دونوں سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھے، انھوں نے پوچھا: کیا ان لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ پھر سیّدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے ان کو اذان و اقامت کے بغیر نماز پڑھائی اور وہ ان کے درمیان کھڑے ہوئے اور کہا: جب تم تین لوگ ہو تو اس طرح کیا کرو اور جب زیادہ ہو تو تم میں سے ایک امامت کروائے (اور آگے کھڑا ہو)، جب کوئی رکوع کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنے ہاتھ اپنی رانوں کے درمیان رکھے اور رکوع کے لیے جھکے، میں اب بھی گویا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں کے مختلف ہونے کی طرف دیکھ رہا ہوں۔

وضاحت:
فوائد: … رکوع کے دوران دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے کے اندر ڈال کر ہاتھوں کو گھٹنوں کے درمیان رکھ لینا تطبیق کہلاتا ہے، یہ عمل شروع میں مسنون تھا، لیکن بعد میں منسوخ ہو گیا اور نئے حکم کے مطابق دورانِ رکوع ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھنا مسنون قرار پایا۔ اس دعوی کی دلیل درج ذیل حدیث ہے: سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز سکھائی، پس انھوں نے اللہ اکبر کہا اور رفع الیدین کیا، پھر رکوع کیااور ہاتھوں میں تطبیق دی اور ان کو گھٹنوں کے درمیان رکھا۔ جب سیّدنا سعد رضی اللہ عنہ کو اس بات کا پتہ چلا تو انھوں نے کہا: میرے بھائی عبد اللہ بن مسعود نے سچ کہا، ہم یہ عمل کرتے تھے، لیکن بعد میں ہمیں گھٹنے پکڑنے کا حکم دیا گیا تھا۔ (مسند احمد: ۳۹۷۴، ابوداود: ۷۴۷، نسائی: ۲/ ۱۸۴)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2624
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4272 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4272»