حدیث نمبر: 2623
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعَلْقَمَةُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِالْهَاجِرَةِ فَلَمَّا مَالَتِ الشَّمْسُ أَقَامَ الصَّلَاةَ وَقُمْنَا خَلْفَهُ، فَأَخَذَ بِيَدِي وَبِيَدِ صَاحِبِي فَجَعَلَنَا عَنْ نَاحِيَتَيْهِ وَقَامَ بَيْنَنَا، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً، ثُمَّ صَلَّى بِنَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: إِنَّهَا سَتَكُونُ أَئِمَّةٌ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا فَلَا تَنْتَظِرُوهُمْ بِهَا وَاجْعَلُوا الصَّلَاةَ مَعَهُمْ سُبْحَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

اسود کہتے ہیں: میں اور علقمہ دوپہر کے وقت سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، جب سورج ڈھلا تو انھوں نے نماز کھڑی کی اور ہم ان کے پیچھے کھڑے ہوگئے،لیکن انھوں نے میرا اور میرے ساتھی کا ہاتھ پکڑا اور ہمیں اپنی دونوں طرف کھڑا کرلیا اور خود ہمارے درمیان کھڑے ہوگئے، پھر کہا: جب تین لوگ ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح کیا کرتے تھے، پھر انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی اور فارغ ہونے کے بعد کہا: عنقریب ایسے ائمہ ہوں گے جو نمازوں کوان کے اوقات سے مؤخر کردیں گے، پس تم ان کا انتظار نہ کرنا، (اور وقت پر نماز پڑھ لینا) ا ور اس کے بعد ان کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز کو نفلی بنا لینا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2623
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه مسلم: 534 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3927 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4347»