الفتح الربانی
كتاب العلم— علم کے ابواب
بَابٌ فِي مَجَالِسِ الْعِلْمِ وَآدَابِهَا وَآدَابِ الْمُتَعَلِّمِ باب: علم کی مجالس اور ان کے آداب اورمتعلم کے آداب کا بیان
حدیث نمبر: 262
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: ((مَثَلُ الَّذِي يَجْلِسُ فَيَسْمَعُ الْحِكْمَةَ، ثُمَّ لَا يُحَدِّثُ عَنْ صَاحِبِهِ إِلَّا بِشَرٍّ مَا سَمِعَ، كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَى رَاعِيًا فَقَالَ: يَا رَاعِي! اجْزُرْ لِي شَاةً مِنْ غَنَمِكَ، قَالَ: اذْهَبْ فَخُذْ بِأُذُنِ خَيْرِهَا، فَذَهَبَ فَأَخَذَ بِأُذُنِ كَلْبِ الْغَنَمِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص حکمت کی بات سن کر اس کو اس کے کہنے والے کے حوالے سے بیان نہیں کرتا، مگر وہ جو صرف اس نے شر والی بات سنی ہے، اس کی مثال اس آدمی کی طرح ہے، جس نے ایک چرواہے سے آیا اور کہا: اے چرواہے! ایک بکری تو دے دو، جو ذبح کے قابل ہو، اس نے کہا: جا اور سب سے بہترین بکری کا کان پکڑ لے (اور اس کو لے جا)، لیکن وہ گیا اور بکریوں کے رکھوالے کتے کا کان پکڑ کر لے گیا۔“