حدیث نمبر: 2614
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ فَأَدْرَكَهُمْ وَقْتُ الصَّلَاةِ فَأَقَامُوا الصَّلَاةَ فَتَقَدَّمَهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى مَعَ النَّاسِ خَلْفَهُ رَكْعَةً، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: ((أَصَبْتُمْ وَأَحْسَنْتُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قضائے حاجت کے لیے چلے گئے، اُدھر نماز کا وقت ہوگیا، صحابہ نے نماز کھڑی کر دی اور عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو امامت کے لیے آگے کر دیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کی اقتداء میں لوگوں کے ساتھ ایک رکعت پڑھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: تحقیق تم درستگی کو پہنچے ہواور تم نے اچھا کیا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے ثابت ہونے والا مسئلہ تو واضح ہے کہ امام اپنی رعایا میں سے کسی فرد کی اور فاضل مفضول کی اقتداء میں نماز پڑھ سکتا ہے۔ ہم ’’بَابُ مَا یُفْعَلُ اِذَا لَمْ یَحْضُرْ اِمَامُ الْحَیِّ‘‘ (قبیلے کے امام کی عدم موجودگی میں کیا کیا جائے، اس کا بیان) میں درج بالا حدیث کی روشنی میں یہ وضاحت کر چکے ہیں کہ اگر مقرر امام وقت پر نہ پہنچے اور بظاہر اس کے پہنچنے کے آثار نظر نہ آ رہے ہوں تو کوئی اور آدمی نماز پڑھا سکتا ہے۔ عام طورپرصحابہ کرام نما ز کا وقت ہو جانے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے تھے، لیکن اس موقع پر انتظار نہ کرنے کی یہ وجہ نظر آ رہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے الگ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے واپس آنے میں دیر ہو گئی، صحابہ نے سفر کی نزاکت کی وجہ سے زیادہ انتظار کرنا مناسبت نہ سمجھا اور سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھا دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر اس کام کی تائید فرمائی اور ایسی صورت میں رعایا میں سے کوئی نماز پڑھا دے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2614
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف، رشدين بن سعد ضعفه احمد وابن معين وابوداود والنسائي، وابن سعد، وابوسلمة لم يسمع من ابيه أخرجه الطيالسي: 223، والبزار: 1014، وابويعلي: 853 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1665 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1665»