الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ جَوَازِ اقْتِدَاءِ الْفَاضِلِ بِالْمَفْضُولِ باب: فاضل کا مفضول کی اقتداء کرنے کے جواز کا بیان
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ فَأَدْرَكَهُمْ وَقْتُ الصَّلَاةِ فَأَقَامُوا الصَّلَاةَ فَتَقَدَّمَهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى مَعَ النَّاسِ خَلْفَهُ رَكْعَةً، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: ((أَصَبْتُمْ وَأَحْسَنْتُمْ))سیّدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قضائے حاجت کے لیے چلے گئے، اُدھر نماز کا وقت ہوگیا، صحابہ نے نماز کھڑی کر دی اور عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو امامت کے لیے آگے کر دیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کی اقتداء میں لوگوں کے ساتھ ایک رکعت پڑھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: تحقیق تم درستگی کو پہنچے ہواور تم نے اچھا کیا ہے۔