الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ جَوَازِ اقْتِدَاءِ الْفَاضِلِ بِالْمَفْضُولِ باب: فاضل کا مفضول کی اقتداء کرنے کے جواز کا بیان
(وَعَنْهُ أَيْضًا) وَقَدْ سُئِلَ هَلْ أَمَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ مِنْ هَٰذِهِ الْأُمَّةِ غَيْرُ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، كُنَّا فِي سَفَرٍ وَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا فِيهِ صِفَةُ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِيهِ: قَالَ: ثُمَّ لَحِقْنَا النَّاسَ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يُؤُمُّهُمْ وَقَدْ صَلَّى رَكْعَةً فَذَهَبْتُ لِأُؤْذِنَهُ فَنَهَانِي فَصَلَّيْنَا الَّتِي أَدْرَكْنَا وَقَضَيْنَا الَّتِي سُبِقْنَا بِهَاسیّدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، جبکہ ان سے سوال کیا گیا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ اپنی امت میں سے کسی اور کے پیچھے نماز پڑھی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، ہم سفر میں تھے، … پھر لمبی حدیث بیان کی … ، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وضو کا طریقہ بھی بیان کیا، پھر انھوں نے کہا: جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو نماز کھڑی کی جا چکی تھی اور سیّدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہا ُ ان کو امامت کروا رہے تھے اور ایک رکعت پڑھا چکے تھے، میں اُن کو یہ بتلانے کے لیے آگے ہوا (کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہنچ چکے ہیں)، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے منع کر دیا، پھر ہم نے ایک رکعت ان کے ساتھ پڑھی اور جو رہ گئی تھی، اس کو بعد میں ادا کر لیا۔