الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ جَوَازِ اقْتِدَاءِ الْفَاضِلِ بِالْمَفْضُولِ باب: فاضل کا مفضول کی اقتداء کرنے کے جواز کا بیان
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: خَصْلَتَانِ لَا أَسْأَلُ عَنْهُمَا أَحَدًا مِنَ النَّاسِ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُمَا، صَلَاةُ الْإِمَامِ خَلْفَ الرَّجُلِ مِنْ رَعِيَّتِهِ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَلْفَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةٍ الصُّبْحِ وَمَسْحُ الرَّجْلِ عَلَى خُفَّيْهِ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِسیّدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: دو خصلتیں ہیں، میں ان دونوں کے بارے میں لوگوں میں کسی سے سوال نہیں کروں گا، کیونکہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ دونوں کام کرتے ہوئے دیکھا ہے۔(۱) امام کا اپنی رعایا میں سے کسی آدمی کے پیچھے نماز پڑھنا، تحقیق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز فجر کی ایک رکعت پڑھی اور (۲) آدمی کا اپنے موزوں پر مسح کرنا، تحقیق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے دیکھا ہے۔