حدیث نمبر: 2611
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَرْضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: ((مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ))، قَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ، فَمَتَى يَقُومُ مَقَامَكَ تُدْرِكُهُ الرِّقَّةُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ))، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ وَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ قَاعِدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس بیماری میں وفات پا گئے تھے، اس میں فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ سیّدنا عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ابوبکر بڑے نرم دل (اور جلد رونے والے) آدمی ہیں،جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ کھڑے ہوں گے تو ان پر رقت طاری ہو جائے گی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم بھی یوسف علیہ السلام کی صاحبات ہو، ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ پھر سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔

وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ مشورہ دینے کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ’’صَوَاحِبَاتُ یُوْسُف‘‘ کہنے کا کیا مقصد تھا؟ یہ تفصیل حدیث نمبر(۱۲۷۲) میں دیکھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2611
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3384، ومسلم: 418 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24061، 25258 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25772»