الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ اقْتِدَاءِ الْقَادِرِ عَلَى الْقِيَامِ بِالْجَالِسِ وَالْجَالِسِ لِعُذْرٍ بِالْقَائِمِ باب: کھڑے ہونے پر قدرت رکھنے والے کا بیٹھے ہوئے امام کی اورکسی عذر کی وجہ سے بیٹھنے والے کا کھڑے ہونے والے امام کی اقتدا کرنے کا بیان
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((يَا هَؤُلَاءِ! أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ؟)) قَالُوا: بَلَى نَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: ((أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ فِي كِتَابِهِ: مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ؟)) قَالُوا: بَلَى نَشْهَدُ أَنَّهُ مَنْ أَطَاعَكَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَإِنَّ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ طَاعَتَكَ، قَالَ: ((فَإِنَّ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ أَنْ تُطِيعُونِي، وَإِنَّ مِنْ طَاعَتِي أَنْ تُطِيعُوا أَئِمَّتَكُمْ، أَطِيعُوا أَئِمَّتَكُمْ، فَإِنْ صَلَّوْا قُعُودًا فَصَلُّوا قُعُودًا))سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن صحابہ کی ایک جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر متوجہ ہوئے، اور فرمایا: لوگو!کیا تم جانتے نہیں کہ بے شک میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے نہیں کہ اللہ نے اپنی کتاب میں یہ حکم نازل کیا ہے کہ جس نے میری اطاعت کی، پس اس نے اللہ کی اطاعت کی؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول!ہم گواہی دیتے ہیں کہ جس نے آپ کی اطاعت کی، پس اس نے اللہ کی اطاعت کی اور آپ کی اطاعت کرنا اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے سے ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ کی اطاعت سے ہے کہ تم میری اطاعت کرو اور میری اطاعت سے ہے کہ تم اپنے اماموں کی اطاعت کرو، اپنے اماموں کی اقتدا کرو، اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھیں تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھا کرو۔