الفتح الربانی
كتاب التوحيد— توحید کی کتاب
بابٌ فِيمَا جَاءَ فِي نَعِيمِ الْمُوَحِّدِينَ وَثَوَابِهِمْ وَوَعِيدِ الْمُشْرِكِينَ باب: توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ سَمِعَ الْقَوْمَ وَهُمْ يَقُولُونَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ)) ثُمَّ سُمِعَ نِدَاءٌ فِي الْوَادِي يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((وَأَنَا أَشْهَدُ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا يَشْهَدَ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا بَرِئَ مِنَ الشِّرْكِ)) قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ.سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”اے اللہ کے رسول! کون سا عمل زیادہ فضیلت والا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ایمان لانا، اللہ کے راستے میں جہاد کرنا اور حج مبرور۔“ پھر وادی سے یہ آواز سنی گئی، کوئی کہہ رہا تھا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ»۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور میں بھی یہی گواہی دیتا ہوں اور میں یہ شہادت بھی دیتا ہوں کہ جو آدمی بھی یہ گواہی دے گا، وہ شرک سے بری ہو جائے گا۔“ امام احمد رحمہ اللہ کے بیٹے عبداللہ بن احمد نے کہا: میں نے یہ حدیث ہارون راوی سے براہِ راست سنی ہے۔