الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ وُجُوبِ مُتَابَعَةِ الْإِمَامِ وَالنَّهْيِ عَنْ مُسَابَقَةِ باب: امام کی اتباع کے واجب ہونے اور اس سے آگے بڑھ جانے کی ممانعت کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَقَدِ انْصَرَفَ مِنَ الصَّلَاةِ فَأَقْبَلَ إِلَيْنَا فَقَالَ: ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنِّي إِمَامُكُمْ، فَلَا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ وَلَا بِالسُّجُودِ وَلَا بِالْقِيَامِ وَلَا بِالْقُعُودِ وَلَا بِالْانْصِرَافِ فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ أَمَامِي وَمِنْ خَلْفِي، وَأَيْمُ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا))، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا رَأَيْتَ؟ قَالَ: ((رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ))، زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَحَضَّهُمْ عَلَى الصَّلَاةِسیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہونے کے بعد ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: لوگو! بے شک میں تمہارا امام ہوں، اس لیے رکوع و سجود ، قیام و قعود اور سلام میں مجھ سے آگے نہ بڑھا کرو، میں تم کو اپنے آگے سے اور اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم وہ کچھ دیکھ لو جو میں نے دیکھا ہے تو تم ہنسنا تھوڑا کر دو اور رونا زیادہ کر دو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے جنت اور جہنم کو دیکھا ہے۔ ایک روایت میں ہے: اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو نماز پڑھنے پر ابھارا۔