الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ وُجُوبِ مُتَابَعَةِ الْإِمَامِ وَالنَّهْيِ عَنْ مُسَابَقَةِ باب: امام کی اتباع کے واجب ہونے اور اس سے آگے بڑھ جانے کی ممانعت کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى رَجُلٌ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَرْكَعُ قَبْلَ أَنْ يَرْكَعَ، وَيَرْفَعُ قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ: ((مَنْ فَعَلَ هَٰذَا؟)) قَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَحْبَبْتُ أَنْ أَعْلَمَ تَعْلَمُ ذَلِكَ أَمْ لَا، فَقَالَ: ((اتَّقُوا خِدَاجَ الصَّلَاةِ إِذَا رَكَعَ الْإِمَامُ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا))سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی،وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے رکوع کر دیتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے اٹھ جاتا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پوری کی تو فرمایا: اس طرح کرنے والا کون تھا؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول!میں تھا، میں یہ جاننا پسند کر رہا تھا کہ آپ کو پتہ چلتا ہے یا نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز کے نقصان سے بچا کرو،جب امام رکوع کرے تو تب رکوع کیا کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تب تم سر اٹھایا کرو۔