الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ وُجُوبِ مُتَابَعَةِ الْإِمَامِ وَالنَّهْيِ عَنْ مُسَابَقَةِ باب: امام کی اتباع کے واجب ہونے اور اس سے آگے بڑھ جانے کی ممانعت کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَلَا تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَلَا تُكَبِّرُوا حَتَّى يُكَبِّرَ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَلَا تَرْكَعُوا حَتَّى يَرْكَعَ، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ (وَفِي رِوَايَةٍ: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، وَفِي أُخْرَى: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ) وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَلَا تَسْجُدُوا حَتَّى يَسْجُدَ، وَإِنْ صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ))سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: امام صرف اس لیے ہوتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، اس لیے تم اس پر اختلاف نہ کیا کرو، جب وہ تکبیر کہہ لے تو تم تکبیر کہو اور تم اس وقت تک تکبیر نہ کہو جب تک وہ تکبیر نہ کہہ لے، اسی طرح جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور تم اس وقت تک رکوع نہ کرو جب تک وہ رکوع نہ کرے، جب وہ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہے تو تم رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ کہو، ایک روایت میں اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ اور ایک میں رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ ہے، جب امام سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو اور اس کے سجدہ کرنے سے پہلے سجدہ نہ کرو اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔