الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ انْعِقَادِ الْجَمَاعَةِ بِإِمَامٍ وَمَأْمُومٍ سَوَاءً كَانَ الْمَأْمُومُ رَجُلًا أَمْ صَبِيًّا أَمِ امْرَأَةً باب: امام اور ایک مقتدی کے ساتھ جماعت کا منعقد ہو جانا، برابر ہے کہ وہ مقتدی مرد ہو یا عورت ہو یا بچہ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ فَصَلَّتْ، فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ، وَرَحِمَ اللَّهَ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا فَصَلَّى، فَإِنْ أَبَى نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءِ))سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس آدمی پر رحم کرے جو رات کو کھڑا ہوتا ہے اور نماز پڑھتا ہے اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرتاہے اور وہ بھی نماز پڑھتی ہے۔ اگر وہ اٹھنے سے انکار کرتی ہے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارتا ہے۔ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ اس عورت پر بھی رحم کرے جو رات کو اٹھتی ہے اور نماز پڑھتی ہے اور اپنے خاوند کو بھی جگاتی ہے اور وہ بھی نماز پڑھتا ہے، اگر وہ اٹھنے سے انکار کرتا ہے تو وہ اس کے منہ پر چھینٹے مارتی ہے ۔