الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ جَوَازِ جَهْرِ الْإِمَامِ بِتَكْبِيرِ الصَّلَاةِ لِيَسْمَعَهُ الْمَأْمُومُونَ وَحُكْمِ التَّسْمِيعِ مِنْ غَيْرِ الْإِمَامِ باب: امام کا مقتدیوں کو سنانے کے لیے نماز میں اونچی آواز سے تکبیر کہنے کے جواز کا بیان¤اور امام کے علاوہ کسی دوسرے کا تکبیر سنانے کا حکم
حدیث نمبر: 2591
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اسْتَكْأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُكَبِّرُ يُسْمِعُ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ … الحَدِيثترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوگئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ تکبیر کہتے اور لوگوں کو اپنی تکبیر کی آواز سناتے تھے ۔