الفتح الربانی
كتاب العلم— علم کے ابواب
بَابٌ فِي مَجَالِسِ الْعِلْمِ وَآدَابِهَا وَآدَابِ الْمُتَعَلِّمِ باب: علم کی مجالس اور ان کے آداب اورمتعلم کے آداب کا بیان
عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ مَرَّ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ، فَجَاءَ أَحَدُهُمْ فَوَجَدَ فُرْجَةً فِي الْحَلْقَةِ فَجَلَسَ وَجَلَسَ الْآخَرُ مِنْ وَرَائِهِمْ وَانْطَلَقَ الثَّالِثُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَبَرِ هَؤُلَاءِ النَّفَرِ؟)) قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((أَمَّا الَّذِي جَاءَ فَجَلَسَ فَآوَى فَآوَاهُ اللَّهُ، وَالَّذِي جَلَسَ مِنْ وَرَائِكُمْ فَاسْتَحْيَا فَاسْتَحْيَا اللَّهُ مِنْهُ، وَأَمَّا الَّذِي انْطَلَقَ رَجُلٌ أَعْرَضَ فَأَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ))سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، وہاں سے تین افراد کا گزر ہوا، ان میں سے ایک فرد متوجہ ہوا اور مجلس کے اندر خالی جگہ دیکھ کر وہاں بیٹھ گیا، دوسرا فرد لوگوں کے پیچھے ہی بیٹھ گیا اور تیسرا چلا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ان تین افراد کی بات بیان نہ کر دوں؟“ صحابہ کرام نے کہا: ”کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص آگے بڑھ کر بیٹھ گیا، اس نے جگہ لی اور اللہ تعالیٰ نے اس کو جگہ دے دی، جو آدمی تمہارے پیچھے بیٹھ گیا، پس اس نے شرم محسوس کی اور اللہ تعالیٰ بھی اس سے شرما گیا اور جو فرد چلا گیا، پس اس نے اعراض کیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے اعراض کیا۔“