الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ إِطَالَةِ الْإِمَامِ الرَّكْعَةَ الْأُولَى وَانْتِظَارِ مَنْ أَحْسَنَ بِهِ دَاخِلًا لِيُدْرِكَ الرَّكْعَةَ باب: امام کا پہلی رکعت کو لمبا کرنے اوراس شخص کا انتظار کرنے کا بیان¤جس کو وہ داخل ہوتا ہوا محسوس کرے، تاکہ وہ رکعت پا لے
حدیث نمبر: 2588
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَتْ صَلَاةُ الظُّهْرِ تُقَامُ فَيَنْطَلِقُ أَحَدُنَا إِلَى الْبَقِيعِ فَيَقْضِي حَاجَتَهُ ثُمَّ يَأْتِي فَيَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَىترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ظہر کی نماز کھڑی ہو جاتی اور ہم میں سے ایک آدمی بقیع کی طرف جاتا، قضائے حاجت کرتا، پھر (گھر آ کر) وضو کرتا، پھر جب وہ مسجد کی طرف آتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی تک پہلی رکعت میں ہی ہوتے۔