الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ جَوَازِ الاسْتِخْلَافِ فِي الصَّلَاةِ وَجَوَازِ انْتِقَالِ الْخَلِيفَةِ مَأْمُومًا إِذَا حَضَرَ مُسْتَخْلِفُهُ باب: نماز میں امام کا اپنا نائب بنانے کا اور نائب بنانے والے امام کے آنے کے بعد¤نائب کا مقتدی بن جانے کا جواز
حدیث نمبر: 2583
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ، قَالَ وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ يَمِينِهِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُؤَتَّمُّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يُؤَتَّمُّونَ بِأَبِي بَكْرٍ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْقِرَاءَةِ مِنْ حَيْثُ بَلَغَ أَبُو بَكْرٍ، وَمَاتَ فِي مَرَضِهِ ذَاكَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند)پھرنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور بیٹھ گئے اور سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ا ٓپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دائیں جانب کھڑے رہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اور لوگ اُن کی اقتدا کر نے لگے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں سے قراءت شروع کی، جہاں سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پہنچے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی بیماری میں فوت ہو گئے تھے۔