حدیث نمبر: 2581
عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي مَرَضِهِ: ((مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ))، فَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فَكَبَّرَ، وَوَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَاحَةً فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ تَأَخَّرَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَكَانَكَ، ثُمَّ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ فَاقْتَرَأَ مِنَ الْمَكَانِ الَّذِي بَلَغَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنَ السُّورَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیماری میں فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ پس سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نکلے اور اللہ اکبر کہہ کر نماز شروع کی، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کچھ راحت محسوس ہوئی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی نکلے اور دو آدمیوں کے سہارے تشریف لے آئے، جب سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ وہ اپنی جگہ پر ٹھہرے رہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آ کر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے (بائیں)پہلو میں بیٹھ گئے اور سورت کے اس مقام سے قراءت شروع کر دی، جہاں ابو بکر رضی اللہ عنہ پہنچے تھے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2581
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، قيس بن ربيع مختلف فيه راوي هے، اس كي حديث شواهد ميں حسن هے اور يه ان ميں سے ايك هے، ليكن حقيقت حال يه هے كه اس حديث كے سند كے دو راوي قيس بن ربيع اور ارقم بن شرحبيل جمهور اهل علم كے نزديك ضعيف هيں، اس ليے اس حديث كا آخري جمله منكر هي رهے گا، جو كه يه هے: آپa نے سورت كے اس مقام سے قراء ت شروع كر دي، جهاں ابو بكر bپهنچے تھے۔ أخرجه مختصرا البزار: 1566، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1784 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1785»