الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ جَوَازِ الاسْتِخْلَافِ فِي الصَّلَاةِ وَجَوَازِ انْتِقَالِ الْخَلِيفَةِ مَأْمُومًا إِذَا حَضَرَ مُسْتَخْلِفُهُ باب: نماز میں امام کا اپنا نائب بنانے کا اور نائب بنانے والے امام کے آنے کے بعد¤نائب کا مقتدی بن جانے کا جواز
عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي مَرَضِهِ: ((مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ))، فَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فَكَبَّرَ، وَوَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَاحَةً فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ تَأَخَّرَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَكَانَكَ، ثُمَّ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ فَاقْتَرَأَ مِنَ الْمَكَانِ الَّذِي بَلَغَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنَ السُّورَةِسیّدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیماری میں فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ پس سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نکلے اور اللہ اکبر کہہ کر نماز شروع کی، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کچھ راحت محسوس ہوئی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی نکلے اور دو آدمیوں کے سہارے تشریف لے آئے، جب سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ وہ اپنی جگہ پر ٹھہرے رہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آ کر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے (بائیں)پہلو میں بیٹھ گئے اور سورت کے اس مقام سے قراءت شروع کر دی، جہاں ابو بکر رضی اللہ عنہ پہنچے تھے۔