الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ حُكْمِ الْإِمَامِ إِذَا ذَكَرَ أَنَّهُ مُحْدِثٌ باب: اس امام کے حکم کا بیان، جس کو (دورانِ نماز) یہ یاد آجائے کہ وہ بے وضو ہے
حدیث نمبر: 2576
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ فَكَبَّرَ ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَيْهِمْ أَنْ مَكَانَكُمْ ثُمَّ دَخَلَ فَخَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ فَصَلَّى بِهِمْ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ: ((إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنِّي كُنْتُ جُنُبًا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز شروع کی، اللہ اکبر کہا، لیکن اچانک نمازیوں کی طرف اشارہ کیا کہ وہ اپنی اپنی جگہ پر ٹھہرے رہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں داخل ہو گئے، پھر جب آپ باہر آئے تو آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، پس آپ نے ان کی نماز پڑھائی اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرمایا: بیشک میں بشر ہی ہوں، در اصل میں جنبی تھا۔