الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ حُكْمِ الْإِمَامِ إِذَا ذَكَرَ أَنَّهُ مُحْدِثٌ باب: اس امام کے حکم کا بیان، جس کو (دورانِ نماز) یہ یاد آجائے کہ وہ بے وضو ہے
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نُصَلِّي إِذِ انْصَرَفَ وَنَحْنُ قِيَامٌ ثُمَّ أَقْبَلَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ فَصَلَّى لَنَا الصَّلَاةَ، ثُمَّ قَالَ: ((إِنِّي ذَكَرْتُ أَنِّي كُنْتُ جُنُبًا حِينَ قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ لَمْ أَغْتَسِلْ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْكُمْ فِي بَطْنِهِ رِزًّا أَوْ كَانَ مِثْلَ مَا كُنْتُ عَلَيْهِ فَلْيَنْصَرِفْ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ حَاجَتِهِ أَوْ غُسْلِهِ ثُمَّ يَعُودُ إِلَى صَلَاتِهِ))سیّدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، اچانک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے گئے، جبکہ ہم قیام کی حالت میں تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آئے تو آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور (فراغت کے بعد) فرمایا: جب میں نماز کے لیے کھڑا ہوا تو مجھے یاد آیا کہ میں جنبی ہوں اور غسل نہیں کیا ،(آئندہ تم یاد رکھو کہ) تم میں جو شخص اپنے پیٹ میں آواز وغیرہ محسوس کرے یا اس کے ساتھ میرا والا یہ معاملہ ہو جائے تو وہ چلا جائے اور اپنی حاجت سے یا غسل سے فارغ ہوکر اپنی نماز کی طرف لوٹے۔