الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ تَخْفِيفِ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ مَعَ إِتْمَامِهَا باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا باوجود نماز مکمل کرنے کے لوگوں کو ہلکی نماز پڑھانے کا بیان
حدیث نمبر: 2572
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: أَهَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لَكُمْ؟ قَالَ: وَمَا أَنْكَرْتَ مِنْ صَلَاتِي؟ قَالَ: قُلْتُ: أَرَدْتُّ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: نَعَمْ وَأَوْجَزَ، قَالَ: وَكَانَ قِيَامُهُ قَدْرَ مَا يَنْزِلُ الْمُؤَذِّنُ مِنَ الْمَنَارَةِ وَيَصِلُ إِلَى الصَّفِّترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) ان کا باپ کہتا ہے: میں نے سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا:کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم لوگوں کو اس طرح نماز پڑھاتے تھے۔ انھوں نے پوچھا: تو نے میری نماز میں سے کس چیز کا انکار کیا ہے؟ میں نے کہا:میں آپ سے اِس (تخفیف) کے بارے میں پوچھنا چاہ رہا ہوں، انھوں نے کہا: جی ہاں اور اس سے بھی زیادہ مختصر ہوتی تھی، (یوں سمجھیں کہ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قیام کی مقدار اتنی ہوتی تھی کہ جتنا مؤذن کو مینار سے اتر کر صف میں ملنے کا وقت لگتا ہے۔