حدیث نمبر: 2563
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ نَافِعِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ: عُدْنَا أَبَا وَاقِدٍ الْبَكْرِيَّ وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ الْبَدْرِيَّ، وَفِي رِوَايَةِ اللَّيْثِيِّ وَفِي أُخْرَى الْكِنْدِيَّ، فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَسَمِعَهُ يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَفَّ النَّاسِ صَلَاةً عَلَى النَّاسِ وَأَطْوَلَ النَّاسِ صَلَاةً لِنَفْسِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن نمازِ فجر کو مختصر کر کے پڑھا، (جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہو ئے تو) کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے نماز میں اتنی تخفیف کیوں کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے بچے کے رونے کی آوازسنی، جبکہ مجھے یہ گمان بھی تھا کہ اس کی ماں ہمارے ساتھ نماز پڑھ رہی ہو گی، اس لیے میں نے چاہا کہ اس بچے کے لیے اس کو جلدی فارغ کر دوں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2563
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 470 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12547، 13701 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22244»