الفتح الربانی
كتاب العلم— علم کے ابواب
بَابُ الْحَثِّ عَلَى تَعْلِيمِ الْعِلْمِ وَآدَابِ الْمُعَلِّمِ باب: علم سکھانے پر رغبت دلانے اور معلم کے آداب کا بیان
عَنْ أَبِي زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الظُّهْرَ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَ الْعَصْرَ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى الْعَصْرَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ، فَحَدَّثَنَا بِمَا كَانَ وَمَا هُوَ كَائِنٌ، فَأَعْلَمَنَا أَحْفَظُنَاسیدنا ابو زید انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نمازِ فجر پڑھائی اور پھر منبر پر تشریف لائے اور نمازِ ظہر تک خطاب کرتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور ظہر کی نماز پڑھائی، بعد ازاں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھ گئے اور پھر خطاب شروع کر دیا، یہاں تک کہ نمازِ عصر کا وقت ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور عصر کی نماز پڑھا کر پھر منبر پر تشریف لائے اور غروبِ آفتاب تک خطاب جاری رکھا، پس جو کچھ ہو چکا تھا اور جو کچھ ہونے والا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں وہ سب کچھ بیان کر دیا، پس ہم میں سب سے بڑا عالم وہی تھا، جو زیادہ حفظ کرنے والا تھا۔