الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ قِصَّةِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضي الله عنه مَا فِي تَطْوِيلٍ الصَّلَاةِ بِالْمَأْمُومِينَ وَفِيهَا جَوَازُ انْفِرَادِ الْمَأْمُوْمِ لِعُدْرٍ باب: مقتدیوں کو لمبی نماز پڑھانے کے بارے میں سیّدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا قصہ اور عذر کی وجہ سے مقتدی کا اکیلے نماز پڑھنے کا جواز
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: إِنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الْعِشَاءِ فَقَرَأَ فِيهَا {اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ} فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَفْرُغَ فَصَلَّى وَذَهَبَ، فَقَالَ لَهُ مُعَاذٌ قَوْلًا شَدِيدًا، فَأَتَى الرَّجُلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ أَعْمَلُ عَلَى الْمَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((صَلِّ بِالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَنَحْوِهَا مِنَ السُّوَرِ))سیّدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بیشک سیّدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی، اوراس میں {اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ} سورت کی تلاوت کی، ایک آدمی نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ہی کھڑا ہو گیا اور علیحدہ نماز پڑھ کر چلا گیا، سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق بڑی سخت بات کی۔ وہ آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور آپ سے معذرت کرتے ہوئے کہا: میں نے پانی ڈھونے کا کام کیا، (اس لیے تھکا ہوا تھا اور اس طرح نماز پڑھ لی)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو) فرمایا: تم سورۂ شمس جیسی سورتوں کے ساتھ امامت کروایا کرو۔