الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ قِصَّةِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضي الله عنه مَا فِي تَطْوِيلٍ الصَّلَاةِ بِالْمَأْمُومِينَ وَفِيهَا جَوَازُ انْفِرَادِ الْمَأْمُوْمِ لِعُدْرٍ باب: مقتدیوں کو لمبی نماز پڑھانے کے بارے میں سیّدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا قصہ اور عذر کی وجہ سے مقتدی کا اکیلے نماز پڑھنے کا جواز
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَهُ مِنْ جَابِرٍ كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّنَا وَقَالَ مَرَّةً ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي بِقَوْمِهِ فَأَخَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً الصَّلَاةَ وَقَالَ مَرَّةً الْعِشَاءَ، فَصَلَّى مُعَاذٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَ قَوْمَهُ، فَقَرَأَ الْبَقَرَةَ، فَاعْتَزَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَصَلَّى، فَقِيلَ: نَافَقْتَ يَا فُلَانُ، قَالَ: مَا نَافَقْتُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ مُعَاذًا يُصَلِّي مَعَكَ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ وَنَعْمَلُ بِأَيْدِينَا، وَإِنَّهُ جَاءَ يُؤُمُّنَا فَقَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَسَأَلَ: ((يَا مُعَاذُ! أَفَتَّانٌ أَنْتَ؟ أَفَتَّانٌ أَنْتَ؟ اقْرَأْ بِكَذَا وَكَذَا قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ بِـ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى} فَذَكَرْنَا لِعَمْرٍو فَقَالَ أُرَاهُ قَدْ ذَكَرَهُ))سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر وہاں سے لوٹتے اور ہمیں نماز پڑھاتے تھے،ایک روایت میں ہے: پھر وہ لوٹتے اور اپنی قوم کو نماز پڑھاتے تھے، ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عشاء کو مؤخر کر دیا۔ سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ (عام عادت کے مطابق) نماز پڑھی، پھر وہ اپنی قوم کی طرف گئے اور نماز میں سورۂ بقرہ کی تلاوت شروع کر دی، (اِس طویل قیام کی وجہ سے) ایک آدمی نے علیحدہ ہو کر نماز پڑھ لی۔ اس سے کہا گیا: او فلاں! تو تو منافق ہو گیا ہے، لیکن اس نے کہا: میں منافق نہیں ہوا۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ ا ٓپ کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں، پھر وہ یہاں سے واپس جا کر ہماری امامت کرواتے ہیں، ہم اونٹوں والے لوگ ہیں اوراپنے ہاتھ سے کام کرتے ہیں، لیکن جب سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ ہمیں نماز پڑھانے لگے تو انھوں نے سورۂ بقرہ کی تلاوت شروع کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: معاذ! کیا تو فتنہ باز ہے؟ کیا تو لوگوں کو فتنے میں مبتلا کرنا چاہتا ہے؟ فلاں فلاں سورت پڑھ لیا کر۔ ابوزبیر ((حدیث بیان کرتے ہوئے)) کہتے ہیں: تو سورۂ اعلی اور سورۂ لیل پڑھا کر۔ پھر ہم نے یہ بات عمرو بن دینار کے لیے ذکر کی، تو انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ نے اس کو ذکر کیا تھا۔