الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ مَا يُؤْمَرُ بِهِ الْإِمَامُ مِنَ التَّخْفِيفِ باب: اس تخفیف کا بیان جس کا امام کو حکم دیا گیا ہے
حدیث نمبر: 2551
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي لَا أَتَأَخَّرُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ مَخَافَةَ فُلَانٍ يَعْنِي إِمَامَهُمْ، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ غَضَبًا فِي مَوْعِظَةٍ مِنْهُ يَوْمَئِذٍ، فَقَالَ: ((أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ فَأَيُّكُمْ مَا صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول!میں اپنے فلاں امام (کی لمبی قراءت کے) ڈر سے نماز فجر سے لیٹ ہوتا ہوں۔ میں نے اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے سخت غصے کی حالت میں دیکھا، آپ نے فرمایا: لوگو! تم میں سے بعض لوگ دوسروں کو متنفر کرنے والے ہیں، تم میں سے جو بھی لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ تخفیف کرے، کیونکہ ان میں کمزور، بوڑھے اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں۔