حدیث نمبر: 255
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَقَدْ تَرَكَنَا مُحَمَّدٌ وَمَا يُحَرِّكُ طَائِرٌ جَنَاحَيْهِ فِي السَّمَاءِ إِلَّا أَذْكَرَنَا مِنْهُ عِلْمًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس حال میں چھوڑا کہ جو پرندہ بھی (اڑنے کے لیے) اپنے پروں کو حرکت دیتا، ہمیں اس سے کوئی نہ کوئی علم ہو جاتا تھا۔“

وضاحت:
فوائد: … اس کا مفہوم یہ ہے کہ شریعت کے سارے احکام ومسائل کا علم ہو گیا تھا یا ہر پرندے کی حلت و حرمت، حلال پرندوں کے ذبح وغیرہ کے احکام اور اس سے متعلقہ دوسرے شرعی احکام بیان کر دیئے گئے تھے، اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ صحابہ کرام کو پرندوں سے فال لینا معلوم ہو گیا تھا، جو جاہلیت کی ایک رسم تھی۔
یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ پرندوں کے اڑنے سے اللہ کی قدرت سمجھ آتی ہے اور اللہ کی معرفت میں اضافہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ سورۃ الملک (آیت: ۱۹) میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی اس نشانی کی طرف توجہ دلائی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 255
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن ۔ أخرجه الطيالسي: 479 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21361 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21688»