الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ أَمَامَةِ الْأَعْمَى وَالصَّبِيِّ وَالْمَرْأَةِ بِمِثْلِهَا باب: نابینا آدمی اور بچے کی اور عورت کی عورتوں کی امامت کا بیان
حدیث نمبر: 2545
عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ قَالَ حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ وَكَانَتْ قَدْ جَمَعَتِ الْقُرْآنَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَهَا أَنْ تُؤُمَّ أَهْلَ دَارِهَا وَكَانَ لَهَا مُؤَذِّنٌ وَكَانَتْ تُؤُمُّ أَهْلَ دَارِهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اس نے قرآن مجید یاد کیا ہو ا تھا ، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے گھر والوں کی امامت کروایا کرے، پس اس کا ایک مؤذن تھا اور وہ اپنے گھر والوں کی امامت کرواتی تھی۔