الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ أَمَامَةِ الْأَعْمَى وَالصَّبِيِّ وَالْمَرْأَةِ بِمِثْلِهَا باب: نابینا آدمی اور بچے کی اور عورت کی عورتوں کی امامت کا بیان
عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا عَلَى حَاضِرٍ فَكَانَ الرُّكْبَانُ (وَفِي رِوَايَةٍ فَكَانَ النَّاسُ) يَمُرُّونَ بِنَا رَاجِعِينَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَدْنُو مِنْهُمْ فَأَسْمَعُ حَتَّى حَفِظْتُ قُرْآنًا، وَكَانَ النَّاسُ يَنْتَظِرُونَ بِإِسْلَامِهِمْ فَتْحَ مَكَّةَ، فَلَمَّا فُتِحَتْ جَعَلَ الرَّجُلُ يَأْتِيهِ فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنَا وَافِدُ بَنِي فُلَانٍ، وَجِئْتُكَ بِإِسْلَامِهِمْ، فَانْطَلَقَ أَبِي بِإِسْلَامِ قَوْمِهِ، فَرَجَعَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((قَدِّمُوا أَكْثَرَكُمْ قُرْآنًا))، قَالَ: فَنَظَرُوا، وَإِنَّا لَعَلَى حِوَاءٍ عَظِيمٍ، فَمَا وَجَدُوا فِيهِمْ أَحَدًا أَكْثَرَ قُرْآنًا مِنِّي، فَقَدَّمُونِي وَأَنَا غُلَامٌ فَصَلَّيْتُ بِهِمْ وَعَلَيَّ بُرْدَةٌ وَكُنْتُ إِذَا رَكَعْتُ أَوْ سَجَدْتُ قَلَصَتْ فَتَبْدُو عَوْرَتِي، فَلَمَّا صَلَّيْنَا، تَقُولُ عَجُوزٌ لَنَا ذُهْرِيَّةٌ: غَطُّوا عَنَّا اسْتَقْرِيئَكُمْ، قَالَ: فَقَطَعُوا لِي قَمِيصًا، فَذَكَرَ أَنَّهُ فَرِحَ بِهِ فَرَحًا شَدِيدًاسیّدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم ایسی جگہ پر سکونت پذیر تھے،جہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے لوٹنے والے لوگ گزرتے تھے، میں ان کے قریب ہوتا اوران سے سنتا تھا، حتیٰ کہ قرآن کا کافی حصہ مجھے یاد ہو گیا، اُدھر لوگ اسلام لانے کے لیے فتح مکہ کا انتظار کر رہے تھے ۔ جب مکہ فتح ہوگیا تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آنے شروع ہو گئے، ایک آدمی آتا اور کہتا: میں بنو فلاں کا نمائندہ ہوں اور ان کے اسلام کی اطلاع دینے کے لیے آیا ہوں۔ میرے باپ بھی اپنی قوم کے اسلام کی خبر لے کر گئے، جب وہ اُن کی طرف لوٹے تو کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تم میں قرآن زیادہ پڑھا ہوا ہو اس کو امامت کے لیے آگے کرنا۔ پس انھوں نے دیکھا (کہ کس کو امام بنانا چاہیے) جبکہ وہاں لوگوں کی تعداد بہت زیادہ تھی، لیکن وہ ایسا آدمی نہ پا سکے، جو مجھ سے زیادہ قرآن پڑھا ہوا ہوتا، اس لیے انہوں نے مجھے امامت کے لیے آگے کردیا اور میں ابھی لڑکا تھا۔ میں نے ان کو نماز پڑھائی اور مجھ پر ایک چادر تھی، جب میں رکوع یا سجدہ کرتا تو کپڑا اوپر اٹھ جاتا تو میری شرمگاہ ننگی ہونے لگتی، جب ہم نے نماز پڑھ لی تو بہت زیادہ عمر والی ایک بوڑھی عورت کہتی ہے: اپنے قاری کا سرین تو ہم سے ڈھانپ لو۔ پھر انہوں نے ایک کپڑاکاٹ کر میرے لیے قمیص بنائی، جس کی وجہ سے مجھے بہت خوشی ہوئی۔