الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ أَمَامَةِ الْأَعْمَى وَالصَّبِيِّ وَالْمَرْأَةِ بِمِثْلِهَا باب: نابینا آدمی اور بچے کی اور عورت کی عورتوں کی امامت کا بیان
حدیث نمبر: 2542
(وَعَنْهُ أَيْضًا) أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَهَبَ بَصَرُهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَوْ جِئْتَ صَلَّيْتَ فِي دَارِي أَوْ قَالَ: فِي بَيْتِي لَاتَّخَذْتُ مُصَلَّاكَ مَسْجِدًا، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى فِي دَارِهِ أَوْ قَالَ فِي بَيْتِهِ (الحَدِيث)ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں:سیّدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کی نظر ختم ہو گئی تھی، اس لیے انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ تشریف لائیں اور میرے گھر میں نماز پڑھیں، تو میں اس جگہ کو مسجد بنالوں۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور اس کے گھر میں نماز پڑھی۔