حدیث نمبر: 2540
عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْعُقَيْلِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُكْنَى أَبَا عَطِيَّةَ قَالَ: كَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَأْتِينَا فِي مُصَلَّانَا يَتَحَدَّثُ، قَالَ: فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ يَوْمًا فَقُلْنَا: تَقَدَّمْ، فَقَالَ: لَا، لِيَتَقَدَّمْ بَعْضُكُمْ حَتَّى أُحَدِّثَكُمْ لِمَ لَا أَتَقَدَّمُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ مَنْ زَارَ قَوْمًا فَلَا يُؤُمَّهُمْ، وَلْيُؤُمَّهُمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابوعطیہ کہتے ہیں: سیّدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمارے پاس ہماری جائے نمازمیں آتے تھے اور باتیں کرتے تھے، ایک دن نماز کا وقت ہوگیا، ہم نے ان سے کہا: آگے بڑھو اور (نماز پڑھاؤ)، لیکن انھوں نے کہا: نہیں، تمہارا اپنا کوئی آدمی آگے بڑھے، میں تم کو بیان کرتا ہوں کہ میں آگے کیوں نہیں بڑھ رہا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا: جو آدمی دوسروں کی ملاقات اور زیارت کرنے کے لیے ان کے پاس آئے، وہ ان کو امامت نہ کرائے، بلکہ ان کا اپنا کوئی آدمی جماعت کرائے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2540
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «المرفوع منه حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف لجھالة ابي عطية أخرجه الترمذي: 356 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20532 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20806»